شہر جالنہ کے کہنہ کمنہ شاعری مولانا بشیر

Image
 شہر جالنہ کے کہنہ کمنہ شاعری مولانا بشیر احمد راہی صاحب نے مرکزی مہم "رجوع الی القرآن" کی شاندار نظم کہ ہے ۔۔ملاحظہہ فرمائیں। _"ہمارا ইস محور اسی کی اقامت"_ نظم بضمن *"رُجوٗع اِلی القُرآن"* کلامِ الٰہی বইِ  منزّل من اللہ পদ্ধতিِ عبادت بصارت نظامِ عدالت بصیرت منظم شفاء এবং پیغامِ رحمت  ব্যক্ত সিধা রসتہ আমার পথেِ জান্নাত ہمارا محور اسی کی اقامت  ঈশ্বরের দৃষ্টিতে বাস্তবতা আছে বৈধতা মানে সত্য জ্ঞান فضل و احساں فضیلت ‍ একই মধ্যে রয়েছে নিরাপদ নিরাপত্তা  رضائے الٰہی জ্ঞান হলো বাশারত ہمارا محور اسی کی اقامت  এর জিনিসপত্রও আছে আমাদেরও বিশ্বাস, ঈমানও শেষ হবে যে اس پر সে ذیشانও আছে ঈশ্বরের সম্পূর্ণ এই আদেশও  শুভ সত্যতা পদ্ধতি ہمارا محور اسی کی اقامت  جو ذرے تھے۔ ستمگر یہاں مہرباں تباہ ہیں۔  যারা পাথর ছিলেন জান্নাত نشاں ধ্বংস করেছেন کڑی دھوپ میں سائباں হয়ে গেছেন فصاحت بلاغت شفاعت حلاوت ہمارا محور اسی کی اقامت  تری زندگانی کی تعمیر اس میں کہ پوشیدہ قوموں کی تقدیر اس میں সম্পূর্ণ ফলাফলের প্রভাব اس میں حقیقت میں جنت کی تبشیر اس میں  ক্রامت স্ব...

میاں بیوی کے مشترکہ حقوق

 

                          میاں بیوی کے مشترکہ حقوق


بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
پہلا حق ۔ غلطیوں اور لغزشوں پر چشم پوشی

غلطی خواہ   زبان کی ہو یا عمل کی اگراس کا مقصد پرانہیں نیز وہ انجانے میں ہوئی ہےاسے نظر انداز کرناچا ہۓ۔ بھول جانا چاہۓ ۔ بردشت کرنی چاہئے اور اس اسے آنکھیں بند کرلینی چاہئے ۔
سوچنے کی بات ہے کہ کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے جب انسان کو خود اپنے آپ پر اپنی ہی غلطی کی وجہ سے غصہ  آتا ہے لیکن اس وقت وہ کیا کرتا ہے؟ظاہرہے کہ برداشت کرتا ہے اورعزرتلاش کرتا ہے۔
مثلاً کہیں بولناہو اور چپ رہ  جاۓ۔ طاقت دکھانی ہو اور کمزور پڑجاۓ۔
برداشت کرنا ہو مگر غصہ میں آجائے۔ان حالات میں آدمی کو اپنے آپ پر غصہ آتا ہے مگر اسے برداشت کرتاہے۔ اسی طرح میاں بیوی بھی دو قالب ایک جان ہوتےہیں ۔
ہرکسی کو دوسرے کی غلطی اپنی غلطی سمجھنی چاہۓ۔
نیک نیتی اور دلوں کی محبت کے ساتھ  ایک دوسرے کے لئے عزر تلاش کرنی چاہئے اور نظر انداز کرنا چاہۓ۔
شوہر اگر بیوی کو غصہ میں دیکھے تو اسے غصہ میں آنے کی بجاۓغصہ پیجاناچاہۓ۔اسی طرح بیوی کو بھی کرنا چاہۓ البتہ بیوی کو شوہر کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے اسے نصیحت پر مرد سے زیادہ پیرا ہوناچاہئے۔
ابو درداء       راضی اللہ عنہ  نے اپنی بیوی سے کتنی عظیم بات کہی تھی کہ اگر مجھے غصہ میں دیکھنا تو راضی کرلینااور جب میں تجھے غصہ میں دیکھوں گا

تو راضی کرلوںگا اس کے بغیر ہم دونوں ایک ساتھ نہیں رہ سکتے یعنی تو مجھے ناراض دیکھنا تو منا لینا اور تجھے روٹھنے پر میں منا لکروںگا اس کے بغیر گزارہ اور ارہنباہ مشکل

Coming soon part 2

Comments

Popular posts from this blog

شہر جالنہ کے کہنہ کمنہ شاعری مولانا بشیر

چوتھا حق : رازوں کی حفاظت