شہر جالنہ کے کہنہ کمنہ شاعری مولانا بشیر

Image
 شہر جالنہ کے کہنہ کمنہ شاعری مولانا بشیر احمد راہی صاحب نے مرکزی مہم "رجوع الی القرآن" کی شاندار نظم کہ ہے ۔۔ملاحظہہ فرمائیں। _"ہمارا ইস محور اسی کی اقامت"_ نظم بضمن *"رُجوٗع اِلی القُرآن"* کلامِ الٰہی বইِ  منزّل من اللہ পদ্ধতিِ عبادت بصارت نظامِ عدالت بصیرت منظم شفاء এবং پیغامِ رحمت  ব্যক্ত সিধা রসتہ আমার পথেِ জান্নাত ہمارا محور اسی کی اقامت  ঈশ্বরের দৃষ্টিতে বাস্তবতা আছে বৈধতা মানে সত্য জ্ঞান فضل و احساں فضیلت ‍ একই মধ্যে রয়েছে নিরাপদ নিরাপত্তা  رضائے الٰہی জ্ঞান হলো বাশারত ہمارا محور اسی کی اقامت  এর জিনিসপত্রও আছে আমাদেরও বিশ্বাস, ঈমানও শেষ হবে যে اس پر সে ذیشانও আছে ঈশ্বরের সম্পূর্ণ এই আদেশও  শুভ সত্যতা পদ্ধতি ہمارا محور اسی کی اقامت  جو ذرے تھے۔ ستمگر یہاں مہرباں تباہ ہیں۔  যারা পাথর ছিলেন জান্নাত نشاں ধ্বংস করেছেন کڑی دھوپ میں سائباں হয়ে গেছেন فصاحت بلاغت شفاعت حلاوت ہمارا محور اسی کی اقامت  تری زندگانی کی تعمیر اس میں کہ پوشیدہ قوموں کی تقدیر اس میں সম্পূর্ণ ফলাফলের প্রভাব اس میں حقیقت میں جنت کی تبشیر اس میں  ক্রامت স্ব...

چوتھا حق : رازوں کی حفاظت


چوتھا حق : رازوں کی حفاظت

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

 رازوں کی حفاظت میاں بیوی دونوں کی ذمہ داری ہے۔ لوگوں کے درمیان نہ شوہر بیوی کی بریئ کرے ،نہ اس کے راز فاش کر ے اور نہ ہی اس کے سر بستہ رازوں کو ظاہر کرے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: فالصالحات فإننا ت حافظات للغيب بما حفظ الله (النساء/۳۴)۔نیک عورتیں وہ ہیں جو فرماں بردار اور خاوند کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت (مال وآبروکی ) حفاظت کرنے والی ہوں۔ حفاظت کے معاملے میں بیوی کی ذمہ داریاں زیادہ نازک اور زیادہ عظیم ہیں۔ اسے زنا سے بچ کر اپنے آبروکی حفاظت کرنی ہے، راز چھپا کر گھر یلو معلومات کی حفاظت کرنی ہے، ہر قسم کی بدنامی سے دور رہ کر نیک نامی کی حفاظت کرنی ہے۔ رازوں میں سب سے زیادہ اہم رازوہے جو میاں بیوی کے جنسی تعلقات سے متعلق ہے جس عمل کے نتیجے میں بچہ کی ولادت ہوتی ہے ،اس کا افشاء قطعے حرام ہے۔ رسول ﷺ نے فرمایا: قیامت کے روز اللہ کے یہاں سب سے بدتر مرتبہ والا وہ شخص ہو گا جو اپنی بیوی سے ملاپ کرے اور عورت اس سے ملاپ پھر وہ (شوہر) بیوی کے راز کو پھیلاۓ (یعنی دوستوں میں مزے لے لے کر بیان کرے) صحیح مسلم/۱۴۳۷) اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک بار وہ رسول ﷺ کی مجلس میں تھیں اور وہاں بہت سی عمارتیں اور مرد بیٹھے تھے کہ آپ ﷺنے فرمایا: شاید تم میں سے کچھ مرد اپنی بیوی کے ساتھ جو کچھ کرتے ہیں وہ دوسروں سے بیان کردیا کرتی ہیں؟لوگ خاموش رہے۔ اسماء رضی اللہ عنہا بول پڑیں : ہاں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ﷺ!یقیناً عورتیں بھی ایسا کرتی ب اور بے شک مرد بھی ایسا کرتے ہیں۔ اب ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو ، اس عمل کی مثال ایسے ہی ہے کہ کوئی شیطان سرراہ (لب سڑک) کسی شیطانہ سے ملاپ کرے ، اس سے جماع کرے اور لوگ دیکھتے ہیں۔ مسند احمد ۲\۴۵۲

Comments

Popular posts from this blog

میاں بیوی کے مشترکہ حقوق

شہر جالنہ کے کہنہ کمنہ شاعری مولانا بشیر